شهادت حضرت زهرا

خرید بک لینک

مقدمہ ٔ مترجم:

محمد و آل محمد کی عزاداری منانا شیعت کا طرۂ امتیاز اور اسکی بقا ہے،اہل بیت علیہم السلام کی خوشی میں شاد ہونا اور انکے غم میں غمگین ہونا ہماری ذمہ داری اور ہمارا شیوہ ہے ہم شیعوں کا اہل بیت سے لو لگانا اور انکی یاد کو تازہ کرنا دشمنوں کے دلوں میں کانٹا بنکر چھبتا ہے لہذا وہ اسے کم رنگ اور سست کرنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرتے اور نت نئے راستے اپناتے ہیں،کبھی عزاداری کو بدعت بتاتے تو کبھی زیارت اور توسل کو بے دینی کہتے اور اسے شرک سے تعبیر کرتے ہیں اور جب ان حربوں کو اپنانے کے بعد ناکام نظر آئے تو دشمنی کا پینترا بدل کر دوسرے طریقے سے اسے ختم کرنے کی شازیشیں کر تے اور طرح طرح کے شبہات کی جال بچھا کر سادہ لوح شیعوں کو عزاداری سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انکی ان شازشوں کو دیکھتے ہوئے اہلبیت کے در پر جبین سائی کرنے والے علماء نے ان کے ہر حربوں کو ناکام اور انکے ہر شبہ کا منھ توڑ جواب دیا ہے۔

دشمنوں کی جانب سے تراشے گئے چند نئے شبہوں کا منھ توڑ جواب قارئین کے پیش خدمت ہے۔

سوال ۱۔غصب خلافت کے بعد کیوں حضرت علی نے خلافت کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ؟

پہلی بات یہ ہے کہ حضرت علی نے غصب خلافت کے فوراً بعد ہی اسکے خلاف اقدام کیا ہے جیسا کہ اہل سنت کے مشہور عالم و مفسر جناب آلوسی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ عمر نے غلاف شمشیر سے حضرت زہرا ؐ کے پہلو پر مارا اور تازیانہ سے آپکے بازو مبارک کو زخمی کیا۔شدت زخم سے فاطمہ سلام اللہ علیہانے صدا بلند کی ’’یا ابتاہ‘‘اچانک حضرت علی ue001 اپنی جگہ سے اٹھے اور عمر کا گریبان پکڑ کر زمین پر پٹک دیا اور گھونسوں سے ناک اور گلے پر خوب مارا(تفسير آلوسي :3/124)

آلوسی کا اس قضیہ کو نقل کرنا چاہے جس غرض سے ہو اس بات کی دلیل ہے کہ غصب خلافت پر حضرت علی کا اقدام شیعوں کے قرن اول اور دوم کے منابع میں موجود ہے ۔

مقاله .انتظار و وظایف منتظران حضرت بقیه الله اعظم (عجل)...

ما را در سایت مقاله .انتظار و وظایف منتظران حضرت بقیه الله اعظم (عجل) دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 101 تاريخ: پنجشنبه 15 اسفند 1398 ساعت: 5:24

صفحه بندی